الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ اسْتِحْبَابِهَا لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ باب: اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
حدیث نمبر: 3347
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔