حدیث نمبر: 3342
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے آخری بات یہ فرمائی تھی: حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور یاد رکھو کہ سب سے برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔

وضاحت:
فوائد:ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا، ان پر مسجدیں تعمیر کرنا اور ان پر سجدہ کرنا شرعاً حرام ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدناعمر رضی اللہ عنہا کی قبریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بنائی گئی تھیں تو اس وقت وہ جگہ مسجد نبوی کا حصہ نہیں تھی، بعدمیں کی جانے والی توسیع کی وجہ سے اس مقام کو مسجدکی حدود نے گھیر لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3342
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح أخرجه الطيالسي: 229،والدارمي: 2498، والبزار: 439، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 4/ 12، والبيھقي: 9/ 208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»