الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُورِ باب: قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3340
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بنا لینا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا، تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیج دیا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: ’’میری قبر کو عید نہ بنا لینا ‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو میلہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور اس کی زیارت کے لیے ایام و اوقات کو مخصوص نہ کر لیا جائے اور حج و عمرہ یا مسجد ِ حرام اور مسجد ِ نبوی کی طرح کسی سفر کا مقصود اس کی زیارت نہ ہو، وگرنہ یہودو نصاری کے ساتھ مشابہت قرار پائے گی۔