الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُنْقَلُ أَوْ يُنْبَشُ لِغَرَضٍ صَحِيحٍ باب: کسی صحیح مقصد کے لیے میت کو منتقل کرنے یا اس کی قبر اکھاڑنے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ، فَقُلْنَ: اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَأَدْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ))، فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد میں میرے ابو جان شہید ہو گئے، میری بہنوں نے مجھے ایک اونٹ دے کر بھیجا اور کہا: جاؤ اور اپنے اباجان کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کرو۔ پس میں اور میرے مدد گار آ گئے، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ بات معلوم ہوئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلاکر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کو اپنے (شہید) بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پس انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔