الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُنْقَلُ أَوْ يُنْبَشُ لِغَرَضٍ صَحِيحٍ باب: کسی صحیح مقصد کے لیے میت کو منتقل کرنے یا اس کی قبر اکھاڑنے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ، فَقَالَ: ((أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ؟))، فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی (منافق) مرا تو اس کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس نہ آئے تو ہمیں ہمیشہ عار دلائی جاتی رہے گی، پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے قبر میں داخل کرنے سے پہلے مجھے کیوں نہیں بلوا لیا تھا؟ پھر اسے قبر سے نکالا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے سر سے قدم تک اپنا لعاب لگایا اور اسے اپنی قمیص پہنا دی۔