حدیث نمبر: 3331
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: ((يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا))، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ، أَلَا أَخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے، جب ہم قبر کے قریب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور قبر کے اندر دیکھنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کو قبر میں اس قدر دبایا جاتا ہے کہ اس کے کندھے اور سینے کی ہڈیاں اپنی جگہ سے زائل ہو جاتی ہیں اور کافر کی قبر کو تو آگ سے بھر دیا جاتا ہے۔ کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ کون ہیں؟ وہ ہیں جو بدمزاج اور متکبر ہوتے ہیں۔ اور کیا میں تمہیں یہ بھی نہ بتلا دوں کہ سب سے بہترین بندگانِ خدا کون سے ہیں؟ وہ ہیں جو دو بوسیدہ کپڑے والے ضعیف اور فقیر ہوتے ہیں اور جن کو لوگ بھی کمزور سمجھتے ہیں، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دیں تو وہ بھی ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3331
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «سناده ضعيف لضعف محمد بن جابر بن سيار الحنفي، ولانقطاعه، فان ابا البختري سعيد بن فيروز لم يدرك حذيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23850»