حدیث نمبر: 333
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا! إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا! يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانَ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا! لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِي وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا! وَلَا لُقْطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جو لوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔“

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کی دو اقسام عطا کی گئیں، ایک قرآن مجید، جس کو وحی متلو کہتے ہیں اور دوسری حدیث، جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ} … اور وہ (نبی) ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد سنت ِ نبوی ہے اور یہی سنت ہے، جس کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلام مقدس کی وضاحت کرنی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ} … اور ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس چیز کی وضاحت کریں، جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔ ضیافت ہر مہمان کا حق ہے، ہماری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو، آج کل لوگ یہ حق ادا کرنے سے غافل ہیں، جبکہ مہمان کی ضیافت کرنا ایمان و ایقان کا تقاضا ہے، یہ تفصیل کا مقام نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 333
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 4604، وابن ماجه: 12، 3193 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17306»