الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
فَصْلٌ رَابِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي ضَغْطَةِ الْقَبْرِ باب: فصل چہارم: قبر کے میت کو سختی کی ساتھ دبوچنے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حِينَ تُوُفِّيَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ سَبَّحْتَ، ثُمَّ كَبَّرْتَ؟ قَالَ: لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُسیّدنا جابر بن عبداللہؓ کا بیان ہے، جب سعد بن معاذؓ کا انتقال ہوا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، بعد ازاں جب انہیں قبر میں رکھ کر مٹی برابر کر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر تک سُبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر پڑھتے رہے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہتے رہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اس موقع پر سبحان اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہنے کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا: اس صالح بندے پر اس کی قبر تنگ ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فراخ کر دیا۔