الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
فَصْلٌ ثَالِثٌ فِي عَذَابِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقَبْرِ وَمَا يُخَفِّفُهُ عَنْهُمْ وَإِنَّهُ أَكْثَرُهُ بِسَبَبِ التَّبَوُّلُ باب: گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان¤اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3328
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَذَكَرَا رَجُلًا مَاتَ مِنْ بَطْنِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا اشْتَهَى أَنْ يُصَلِّيَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ فَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ؟))، قَالَ الْآخَرُ: بَلَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں: میں سیّدناسلیمان بن صرد اور سیّدناخالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، لوگوں نے بتایا کہ فلاں آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گیا ہے،انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہی اور ایک نے دوسرے سے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی بیماری کی وجہ فوت ہو جائے اس کو ہرگز قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں فرمایا ہے۔