الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
فَصْلٌ ثَالِثٌ فِي عَذَابِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقَبْرِ وَمَا يُخَفِّفُهُ عَنْهُمْ وَإِنَّهُ أَكْثَرُهُ بِسَبَبِ التَّبَوُّلُ باب: گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان¤اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 3327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: ((أْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ))، فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ((لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔