حدیث نمبر: 3327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: ((أْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ))، فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ((لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور فرمایا: میرے پاس دو چھڑیاں لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کو اس کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی طرف رکھ دیا، کسی نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا اس سے میت کو فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک عذابِ قبر میں کچھ تخفیف رہے گی، جب تک ان میں تری رہے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 376، واسحاق بن راهويه في ’’مسنده‘‘: 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9684»