حدیث نمبر: 3326
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَّ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دُفِنَ فِيهِمَا رَجُلَانِ، قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَنْ دَفَنْتُمْ هَا هُنَا الْيَوْمَ؟))، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: ((إِنَّهُمَا لَيَعُذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِيمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: ((أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ))، وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: ((لِيُخَفَّفَنَّ عَنْهُمَا))، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! وَحَتَّى مَتَى يُعَذِّبُهُمَا اللَّهُ؟ قَالَ: ((غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، وَلَوْلَا تَمْرِيغُ قُلُوبِكُمْ أَوْ تَزَايُدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر ان کو رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیات یا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3326
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا من اجل علي بن يزيد الالھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7869، ورواه ابن ماجه: 245 مختصرا باوله الي قوله: ’’لئلا يقع في نفسه شيء من الكبر‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22648»