حدیث نمبر: 3324
عَنْ جَسْرَةَ قَالَتْ: حَدَّثَنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَقُلْتُ: كَذَبْتِ، فَقَالَتْ: بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ: ((مَا هَذِهِ؟))، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: ((صَدَقَتْ))، قَالَتْ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: ((اَللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا:پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتی ہو، اس نے کہا: بات ایسے ہی ہے، بلکہ ہم تو اس کی وجہ سے کپڑے اور چپڑے کو بھی کاٹتے ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف نکلے اور ہماری آوازیں بلند ہو چکی تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :’’یہ کیا ہے ؟ میں نے اس یہودی بات کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ سچ کہہ رہی ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی نماز ادا کرتے تو آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے : اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکَائیِلَ (أَعِذْنِیْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ ۔ (اے اللہ ! جبریل و میکائیل کے رب ! مجھے آگ کی گرمی اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا) ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة،جسرة بنت دجاجة لم يوثقھا سوي العجلي وابن حبان، وقال البخاري: عندھا عجائب، وقدامة بن عبد الله العامري روي عنه جمع وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ أخرجه النسائي: 3/ 72، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24828»