حدیث نمبر: 332
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: ((يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُكَذِّبَنِي وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا! وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حسن بن جابر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: ”قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔“

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بنفس نفیس حجت ہے، اس کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس باب کے آخر میں جس بحث کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 12، والترمذي: 2664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17326»