حدیث نمبر: 3319
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فِي أَقْبُرٍ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَحَادَتْ بِهِ، وَكَادَتْ أَنْ تُلْقِيَهُ، فَقَالَ: ((مَنْ يَعْرِفُ هَذِهِ الْأَقْبُرَ؟))، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَوْمٌ هَلَكُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُّسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ))، ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ))، قُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ))، فَقُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ))، فَقُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ))، فَقُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مدینہ کے ایک باغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے،وہاں کچھ قبریں بھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس خچر پر سوار تھے، وہ اچانک بدکنے لگا اورقریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیچے گرا دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر کی آوازیں سنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایاـ: تم عذابِ جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عذاب ِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم عذابِ قبر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا موضوع بھی سابقہ احادیث والا ہے، پہلے اس امر کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ عذابِ قبر برحق ہے، لیکن اس کی ہیئت و کیفیت کیا ہے، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ان احادیث سے اس مسئلہ کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جاہلیت کا زمانہ فترے کا دور نہیں تھا، لیکن سابقہ انبیاء کی وجہ سے تکلیف کا دور تھا، یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں مرنے والے نافرمانوں کو قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3319
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21997»