الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
فَصْلٌ ثَانٍ فِي عَذَابِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْقَبْرِ باب: دورِ جاہلیت والے لوگوں کا قبر میں عذاب
حدیث نمبر: 3318
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا، وَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو نجار کی ایک ویران سی جگہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قضائے حاجت کرتے تھے، ایک دن وہاں سے گھبرا کر نکلے اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ قبروں والوں کے عذاب کی جو آوازیں میں سنتا ہوں، وہ تمہیں بھی سنا دے۔