الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
فَصْلٌ ثَانٍ فِي عَذَابِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْقَبْرِ باب: دورِ جاہلیت والے لوگوں کا قبر میں عذاب
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ (امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ، فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ، قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُعَذَّبُونَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: ((اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ))، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ))سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں بنو نجار کے باغات میں سے ایک باغ میں تھی،اس باغ میں کچھ قبریں بھی تھیں، ان قبروں والے (قبل از اسلام یعنی) دورِ جاہلیت میں مرے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عذاب دیئے جانے کی آوازیں سنیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے نکل گئے: تم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ان لوگوں کو قبروں میں عذاب ہورہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان کو ایسا عذاب دیا جاتا ہے کہ جو جانوروں کو سنائی دیتا ہے۔