حدیث نمبر: 3314
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا لِأَبِي طَلْحَةَ يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ: وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ يُكَرِّمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَامَ حَتَّى تَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا بِلَالُ! هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ فَقَالَ: مَا أَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ: ((صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ))، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے کھجوروں کے باغ میں قضائے حاجت کے لیے گئے، سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نہ کہ پہلو بہ پہلو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر گئے، یہاں تک سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! تم ہلاک ہو جاؤ، جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں تو کچھ نہیں سن رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو عذاب دیا جارہا ہے۔ پھر اس کے بارے میں جب پوچھا گیاتو وہ یہودی نکلا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3314
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الحاكم: 1/ 40، والبيھقي في ’’اثبات عذاب القبر‘‘: 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12558، 13719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12558»