الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ باب: عذاب قبر اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، لَنْ يُعَجَّلَ شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخَّرَ شَيْءٌ عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ أَخْيَرَ وَأَفْضَلَ))سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: یا اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باپ ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے فائدہ اٹھانے کاموقع عطا فرما، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی باتوں کا سوال کیا ہے جن کے اوقات اور ایام مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کے رزق بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ کوئی چیز اپنے مقرر وقت سے مقدم یا موخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔