حدیث نمبر: 3311
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، لَنْ يُعَجَّلَ شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخَّرَ شَيْءٌ عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ أَخْيَرَ وَأَفْضَلَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: یا اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باپ ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے فائدہ اٹھانے کاموقع عطا فرما، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی باتوں کا سوال کیا ہے جن کے اوقات اور ایام مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کے رزق بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ کوئی چیز اپنے مقرر وقت سے مقدم یا موخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … ’’فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرما۔‘‘ اس دعا کا معنی یہ ہے کہ یہ تینوں ہستیاں لمبی عمر پائیں، تاکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ان سے مستفید ہوتی رہے۔ اگر لوگوں کی عمراور رزق کا فیصلہ ہو چکا ہے تو عذاب یا نجات کی تقدیر بھی تو لکھی جا چکی ہے، لہٰذا اول الذکر سے روک کر مؤخر الذکر کا سوال کرنے کا حکم دینے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہنم یا قبر کے عذاب سے نجات پانے کی دعا کرنا عبادت ہے اور شریعت میں عبادات کا ہی حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ جب تقدیر کے سلسلے میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: کیا ہم اپنی کتاب اور تقدیر فیصلے پر اعتماد نہ کر لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ۔)) یعنی: ’’عمل کرو، پس ہر شخص کو اس عمل کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ جب کہ لمبی عمر کی دعا کرنا عبادت نہیں، اس لیے جیسے ہم تقدیر کا سہارا لے کر صوم وصلاۃ کو ترک نہیں کر سکتے، اسی طرح جہنم سے نجات کی دعا کو بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3311
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3700»