حدیث نمبر: 3307
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَهِيَ تَقُولُ: أَشْعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟ فَارْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا تُفْتَنُ الْيَهُودُ))، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ: ((هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟))، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، جبکہ اس وقت ایک یہودی عورت میرے پاس بیٹھی کہہ رہی تھی: کیا تم جانتی ہو کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانپ اٹھے اور فرمایا: صرف یہودی لوگ قبروں میں آزمائے جائیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چند ہی راتیں گزری تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم جانتی ہو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ واقعی تم لوگوں کو قبروں میں آزمایا جائے گا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنتی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3307
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 584 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26634»