حدیث نمبر: 3306
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدُمُهَا، فَلَا تَصْنَعُ إِلَيْهَا عَائِشَةُ شَيْئًا مِنَ الْمُعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ((لَا، وَعَمَّ ذَلِكَ؟))، قَالَتْ: هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا مِنَ الْمُعْرُوفِ شَيْئًا إِلَّا قَالَتْ وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ، قَالَ: ((كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ))، قَالَتْ: ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحْمَرَّةَ عَيْنَاهُ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! أَظَلَّتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ! اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میری خدمت کیا کرتی تھی،میں جب بھی اسے کوئی چیز دیتی تو وہ کہتی: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بھلا تم یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے کہا: فلاں یہودی عورت ، جب بھی ہم اسے کوئی چیز دیتے ہیں تو وہ کہتی ہے: اللہ تم کو عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے روز سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا۔ اس کے بعد کچھ ایام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہرے رہے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عین دوپہر کے وقت نکلے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اوپر ایک کپڑا اوڑھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے فرماتے جا رہے تھے: لوگو! اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح تم پر فتنے چھا رہے ہیں، لوگو! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لیتے تو تم بہت زیادہ روتے اور کم ہنستے، لوگو! عذاب ِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، بے شک قبر کا عذاب حق ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا دو احادیث میں دو قصے ہیں، پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاعلمی کا اظہار کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو بات واضح کر دی۔ اگر یہ کہا جائے کہ عذابِ قبر سے متعلقہ درج ذیل دو آیات تو مکہ مکرمہ میں نازل ہو چکی تھیں: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: ’’ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔‘‘ {اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا} (سورۂ غافر: ۴۶) یعنی: ’’صبح وشام ان(آلِ فرعون) پر آگ پیش کی جاتی ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3306
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25025»