الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ باب: عذاب قبر اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 3305
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيْهَا يَهُودِيَّةٌ اسْتَوْهَبَتْهَا طِيبًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِلْقَبْرِ عَذَابًا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور خوشبو مانگی، سو جب میں نے اسے خوشبو دے دی تو اس نے کہا: اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔اس دعا سے میرے دل میں تردّد ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،مردوں کو قبر میں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ چوپائے اس کی آواز کو سنتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عوام الناس کو اس حدیث سے ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر اہل علم کو ہر مسئلے کا علم ہو، دیکھیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس واقعہ سے پہلے عذابِ قبر کا علم نہیں تھا، لیکن انھوں نے اس تردد والی کیفیت کو اپنے لیے کافی نہیں سمجھا اور تحقیق کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اسی طرح ہمیں ہرمسئلے کی قرآن و حدیث کے ذریعے تحقیق کرنی چاہیے۔