حدیث نمبر: 3300
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ، فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ (وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا) يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ بَابٌ إِلَى جَنَّةٍ فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ))، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هَبَلَ عِنْدَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس امت کو قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہوتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے، وہ اس میت کو بٹھا کر پوچھتا ہے: تم اس آدمی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تووہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ سن کر فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم نے سچ کہا۔ پھر اس میت کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور فرشتہ اسے کہتا ہے: اگر تم نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہوتا تو تمہارا یہ ٹھکانہ ہوتا، مگر اب تم مومن ہو، اس لیے تمہارا ٹھکانہ یہ ہے، اتنے میں اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیاجاتا ہے اور جب وہ میت ادھر کو اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے: (اِدھر ہی) سکون اختیار کرو، پھر اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر میت کافر یا منافق ہو تو فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں تو کچھ نہیں جانتا، البتہ لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا، فرشتہ کہتا ہے: تو نے نہ سمجھا، نہ پڑھا اور نہ ہی ہدایت پائی۔اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اگر تو اپنے رب پر ایمان لاتاتو تیرا ٹھکانا یہ ہوتا، مگر تو نے چونکہ اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس کے متبادل ایک اور ٹھکانا تیار کیا ہے، اتنے میں اس کے لیے جہنم کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اس کو گرز کی ایک زبردست ضرب لگاتا ہے، جس کی آواز کو جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے۔ یہ حدیث سن کر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فرشتہ ہاتھ میں گرز لے کر کسی آدمی کے ساتھ کھڑا ہو گا تو وہ تو حواس باختہ ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا یہ آیت پڑھی: : {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کلمۂ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے شروع میں مذکور امت سے مراد ہر وہ مسلمان اور کافر ہے، جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی ہو۔ پوری آیت یہ ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: ’’ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔‘‘ مومن کو پہلے جہنم والا اور کافرو منافق کو پہلے جنت والا ٹھکانہ دکھانے کی وجہ یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرے اور زیادہ خوش ہو اور کافر کی حسرت میں اضافہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3300
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11013»