حدیث نمبر: 330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ((مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“

وضاحت:
فوائد: … حواری سے مراد انبیاء کے مخلص اور منتخب پیروکار ہیں، جنہوں نے اطاعت و فرمابرداری، تائید و نصرت، جہاد، امراء و خلفاء کی اطاعت، غرضیکہ انھوں نے اپنے اپنے نبیوں کی فرمابرداری کا ہر تقاضا پورا کیا۔اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص فرمانبرداروں کے بعد اس امت میں بھی ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے، لہٰذا ہمیں اس سلسلے میں متنبہ رہنا چاہیے کہ کیا ہم وہ لوگ تو نہیں ہیں کہ جن کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4379»