الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْقَبْرِ وَفِتْنَتِهِ وَالسُّؤَالِ فِيهِ وَشِدَّتِهِ باب: قبر کی ہولناکی، آزمائش، اس میں کیے جانے والا سوال اور اس کی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3299
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) يَوْمَ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی پر (قبر میں) میں صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو اہلِ جنت کا اور اگر وہ جہنمی ہے تو اہل جہنم کا، اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیامت کے روز جب تجھے اٹھایا جائے گا تو یہ تیرا ٹھکانہ ہوگا۔