حدیث نمبر: 3297
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ))، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَاللَّهِ! مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی کہتے ہیں کہ جب سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی، کسی نے ان سے کہا: آپ جنت اور دوزخ کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن اس وقت تو اتنا نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی منازل میں سب سے پہلی منزل ہے، اگر کوئی آدمی اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے ہی نجات نہ پا سکا تو بعد والے مراحل اس سے مشکل ہوں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے جب بھی (اللہ کے عذاب کے) مناظر دیکھے تو قبر کا منظر سب سے ہولناک پایا۔

وضاحت:
فوائد: … قبر، آخرت کی پہلی منزل ہے اور ہر قبر والے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حشر کے میدان میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاء گا، آنے والی دوسری حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جنتی پر قبر میں جنت اور دوزخی پر دوزخ پیش کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3297
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4267، والترمذي: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 454»