الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى باب: وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 3296
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَاسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَؤُهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یس، قرآن کریم کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرتا ہے، اسے بخش دیا جاتا ہے، اور اپنے قریب الموت لوگوں پر بھی اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کا اصل قانون یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی نیکی اور برائی کا خود ذمہ دار ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْھَا} (سورۂ فصلت: ۴۶)