حدیث نمبر: 3295
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: ((أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟))، قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: میری والدہ کچھ زیورات چھوڑ کر فوت ہو گئی ہیں، تو کیا میں یہ زیورات ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ نے تمہیں اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کے زیورات کو اپنے پاس ہی رکھو (اور صدقہ نہ کر)۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ یہ آدمی خود زیادہ محتاج تھا، اس لیے یہ جس مال کا وارث بنا، اسے اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3295
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ومتنه منكر، ابن لھيعة سييء الحفظ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 772 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17356، 17437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17573»