حدیث نمبر: 3293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَإِنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ((أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، (پھر وہ مر گیا اوراس کے ایک بیٹے) ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیئے، لیکن سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کیا ہوتا اور پھر تم اس کی طرف سے روزے رکھتے اور صدقہ کرتے تو اسے اس کا فائدہ ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … عاص کے دو بیٹے ہشام اور عمرو تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر پر مرنے والے کو نیک عمل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3293
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6704»