الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى باب: وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سَقْيُ الْمَاءِ))، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ ’’تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ‘‘؟ قَالَ: الْحَسَنُحسن کہتے ہیں کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا۔ اس نے کہا: مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا کہ مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے کے الفاظ کہنے والا راوی کون ہے۔ انھوں نے کہا: حسن ہے۔