الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي الْإِعْتِصَامِ بِسُنَّتِهِ ﷺ وَالْاهْتِدَاءِ بِهَدْيِهِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو تھامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا، قَالَ: ((قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ وَمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، (وَفِيهِ أَيْضًا) عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا انْقَادَ انْقَادَ))(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت ہے، پس آپ ہمیں کیا نصیحت کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا،“ اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مومن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ ادھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
(صحیح بخاری: ۷۱۴۲)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاطَاعَۃَ فِیْ الْمَعْصِیَۃِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِیْ الْمَعْرُوْفِ۔)) … نافرمانی میں (امیر کی) اطاعت نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف نیکی کے کاموں میں ہی اطاعت کی جائے گی۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵۷، صحیح مسلم: ۱۸۴۰)لہٰذا خلفائے راشدین اور امراء کی وہ ہدایات واجب الاتباع ہوں گی، جو قرآن و حدیث کے مخالف نہیں ہوں گی۔ (۴)سب خلفائے راشدین نے قرآن و سنت کا پابند رہنے کا اقرار کیا اور زیادہ تر یہ اعلان بھی کرتے تھے کہ فلاں فلاں مسئلے پر اگر کسی کے پاس کوئی حدیث ہے تو وہ پیش کرے۔ (۵)خلفائے راشدین کی چند ایک مثالیں، جن سے مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا ابو بکر ؓنے جب منکرینِ زکوۃ سے قتال کرنا چاہا تو سیدنا عمر ؓنے اُن سے خوب مناقشہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں سے قتال کرنا درست نہیں، بالآخر خلیفۂ اول کے دلائل غالب آ گئے اور سیدنا عمر ؓنے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔ سیدنا ابو بکر ؓنے دو دفعہ چوری کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ اس کا ایک ہاتھ کاٹا جائے اور ایک ٹانگ، تاکہ ایک ہاتھ سالم رہ سکے، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ اس موقع پر اس کے دونوں ہاتھ کاٹنا سنت ہیں، تو خلیفۂ اول نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور سنت کو ترجیح دی۔سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ؓحج تمتع سے منع کرتے تھے، لیکن اس معاملے میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور دیگر صحابہ نے ان دونوں خلفاء کی پیروی نہیں کی، اور عصر حاضر میں تقریباً تمام غیر ملکی حج تمتع ہی کرتے ہیں۔ سیدنا عمر ؓنے ایک دفعہ یہ فیصلہ کر دیا کہ مقتول کی دیت سے بیوی کو میراث نہیں ملے گی، لیکن جب ایک صحابی نے ایک حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ اس موقع پر بیوی کو میراث ملے گی، تو خلیفۂ ثانی نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔ جب سیدنا عمر ؓنے عورتوں کے حق مہر کی ایک مقدار مقرر کرنا چاہی، تو ایک بڑھیا نے ایک آیت پڑھ کر ان سے مناقشہ کیا، سیدنا عمر ؓنے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ جب سیدنا علی ؓنے مرتدین کو قتل کرنے کی بجائے جلایا، تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے سنت کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا، سیدنا علی ؓنے اعتراف کیا اور کہا کہ ابن عباس سچ کہہ رہے ہیں۔ خلفائے راشدین کی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ باقاعدہ ان سے مناقشہ کیا گیا اور کسی موقع پر کسی خلیفہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ وہ حاکمِ وقت ہے، لہٰذا اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ خلفائے راشدین کی شان وعظمت اپنی جگہ پر مسلم ہے، ان کی اس شان کا اعتراف ایمان کی علامت ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم سب سے بلند ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہی خلفائے راشدین کی رفعت کا راز ہے۔