الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ صُنْعِ طَعَامٍ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ وَكَرَاهَةِ مِنْهُمْ لِأَجْلِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَيْهِ باب: اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
حدیث نمبر: 3288
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةِ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنَ النِّيَاحَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم تدفین کے بعد میت کے لواحقین کے ہاں لوگوں کے جمع ہونے کو اور کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ میت کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے لیے کھانا تیار کیا کریں۔ لیکن اس وقت ہمارے ہاں بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت جنازے اور تعزیت میں شرکت کرنے والوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا ہے، جس کا جنازہ گاہ میں باقاعدہ اعلان بھی کیا جاتا ہے اور جس کو اہل میت چارو ناچار اپنی عزت سمجھنے لگ گئے ہیں۔یہ عجیب ہمدردی اور خیرخواہی ہے کہ ایک طرف تو اہل میت کرب و اذیت میں مبتلا ہوں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر ان کو کھانے کا اہتمام بھی کرنا پڑ جائے، بندۂ غریب نے خود بعض ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ برادری کے ایک بڑے آدمی کی فوتگی پر ابھی تک اس کے لیے غسل و کفن کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا کہ اہل میت جمع ہو کر کھانے کے بارے میں فکر مند تھے اور اپنی ایک گائے ذبح کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ وہ فوتگی کے رواجوں کو پورا کرتے کرتے کنگال ہو گئے اور دس دس سالوں تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے، جبکہ اس سے قبل ان کے ذاتی کاروبار بھی تھے۔یہ نظام شرعاً اور اخلاقاً کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس رواج سے انتہائی تنگ ہے، لیکن بزعم خود اپنی عزت اور ناک کا مسئلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔