الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ صُنْعِ طَعَامٍ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ وَكَرَاهَةِ مِنْهُمْ لِأَجْلِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَيْهِ باب: اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
حدیث نمبر: 3287
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهُ وَخَاصَّتَهُ، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا اور عورتیں جمع ہوتیں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد خاص خاص عورتیں باقی رہ جاتے تو وہ حکم دیتیں کی ہنڈیا میں تلبینہ پکایا جائے، پس وہ تیار کیا جاتا، پھر ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال دیا جاتا، پھر وہ کہتیں: عورتو! اس سے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور کسی حد تک غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تلبینہ: مختلف تعریفوں کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے: (۱)بھوسی یا چھنے ہوئے آٹے میں دودھ اور شہد ملا کر بنایا ہوا حریرہ، (۲) دودھ، (۳) خالص آٹا، (۴) وہ آٹا، جس میں چربی ہو۔ عام طور پر پہلا معنی ہی مراد لیا جاتا ہے۔