الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ صُنْعِ طَعَامٍ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ وَكَرَاهَةِ مِنْهُمْ لِأَجْلِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَيْهِ باب: اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
حدیث نمبر: 3286
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ مَوْتِ زَوْجِهَا جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِهِ: ((لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیّدناجعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے میں غفلت نہ برتو، کیونکہ وہ اپنے سربراہ (کی شہادت) کہ وجہ سے مصروف ہیں۔