الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ وَثَوَابِ صَبْرِهِ وَأَمْرِهِ بِهِ وَمَا يُقَالُ لِذَلِكَ باب: مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم¤اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا أَوْ ابْنَةً قَدْ احْتُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ لَهَا السَّلَامَ وَيَقُولُ: ((إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى (وَفِي لَفْظٍ: لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى) وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ))سیّدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی موت کے قریب جا پہنچا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سلام بھیجا اور (تسلی دینے کے لیے) فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے جو اس نے لے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے دیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس (میرے بیٹی) صبر کرے اور اس پر اجر کی امید رکھے۔