حدیث نمبر: 3284
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا أَوْ ابْنَةً قَدْ احْتُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ لَهَا السَّلَامَ وَيَقُولُ: ((إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى (وَفِي لَفْظٍ: لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى) وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی موت کے قریب جا پہنچا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سلام بھیجا اور (تسلی دینے کے لیے) فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے جو اس نے لے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے دیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس (میرے بیٹی) صبر کرے اور اس پر اجر کی امید رکھے۔

وضاحت:
فوائد: … تعزیت اور تسلی دلانے کے لیے یہ بہترین الفاظ ہیں، بخاری ومسلم کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یہ ہیں اور یہی عام کتب میں شائع ہوتے ہیں: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہٗ مَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی۔ نیز دعا وغیرہ کے ذریعے تسلی دلانے کے لیے کوئی بھی جائز انداز اختیار کیا جا سکتا ہے، تعزیت کی فضیلت یہ ہے: محمد بن عمرو بن حزم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُعَزِّيْ أَخَاہُ بِمُصِیْبَۃٍ، إِلَّا کَسَاہُ للّٰہُ سُبْحَانَہٗ مِنْ حُلَلِ الْکَرَامَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (ابن ماجہ: ۱۶۰۱، صحیحہ: ۱۹۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3284
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5655، 6655، ومسلم 923 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22119»