حدیث نمبر: 3283
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصَيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأَجُرْنِي فِيهَا) وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَخَلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا))، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَعَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي، فَقُلْتُهَا: اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا : جس آدمی کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا۔ (بیشک ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ ! میں تیرے ہاں اپنی مصیبت پر ثواب طلب کرتا ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور نعم البدل عطا کرتا ہے۔ ہوا یوں کہ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت دی اور میں یہ دعا پڑھتی رہی: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا۔ (اے اللہ!تو مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما۔) تو (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر لی۔

وضاحت:
فوائد: … اس دعا کے الفاظ ’’اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصَیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا ‘‘ کی بجائے یہ الفاظ ’’اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ‘‘ کہنا بھی درست ہیں، عام کتب میں یہی مؤخر الذکر الفاظ لکھے جاتے ہیں۔ یہ دعا انتہائی بابرکت ہے، جبکہ تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں، اس لیے صبر کے ساتھ یہ دعا پڑھتے رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3283
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 918 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27170»