الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ وَثَوَابِ صَبْرِهِ وَأَمْرِهِ بِهِ وَمَا يُقَالُ لِذَلِكَ باب: مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم¤اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 3282
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا، قَالَ عُبَادَةُ: قَدُمَ عَهْدُهَا، فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان مردو زن کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ بعد میں اسے یاد کر کے از سرِ نو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے، اگرچہ اس صدمے کو لمبا عرصہ گزر چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس چیز کی تجدید کر کے اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے، جتنا صدمے والے دن دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ کلمات مصیبت زدہ لوگوں کا ملجا و مأوی ہیں اور بندہ یہ کلمات ادا کر کے اپنی موت اور حشر کا اقرار کرتا ہے اور یقینی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ہر چیز نے اپنے مالک ِ حقیقی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔