حدیث نمبر: 3282
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا، قَالَ عُبَادَةُ: قَدُمَ عَهْدُهَا، فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان مردو زن کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ بعد میں اسے یاد کر کے از سرِ نو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے، اگرچہ اس صدمے کو لمبا عرصہ گزر چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس چیز کی تجدید کر کے اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے، جتنا صدمے والے دن دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ کلمات مصیبت زدہ لوگوں کا ملجا و مأوی ہیں اور بندہ یہ کلمات ادا کر کے اپنی موت اور حشر کا اقرار کرتا ہے اور یقینی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ہر چیز نے اپنے مالک ِ حقیقی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3282
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، هشام بن ابي هشام متروك، وأمه لايعرف حالھا أخرجه ابن ماجه: 1600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1734»