الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَخْصِيصِهَا وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا باب: قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
حدیث نمبر: 3280
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وَضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نَعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ … )) الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھا دیتے ہیں … ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ میت کا جوتوں کی آواز سننا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوتے پہن کر قبروں پر یا ان کے درمیان میں چلنا جائز ہے، لہٰذا ان دو احادیث کا اس حدیث سے کوئی تعارض نہیں ہے، جس میں جوتے پہن کر قبرستان میں چلنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ یہ حدیث ممانعت میں واضح بھی ہے۔