الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَخْصِيصِهَا وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا باب: قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
حدیث نمبر: 3279
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سُفْيَانَ يَرْفَعُهُ، قَالَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نَعَالِهِمْ، إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ میت کو دفن کے بعد واپس جاتے ہیں تو میت ان لوگوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔