حدیث نمبر: 3278
عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِهِ فَقَالَ لِي: ((يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ! مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَهُ))، قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ آخِذًا بِيَدِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ خَيْرٍ، قَالَ: فَأَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا، قَالَ: فَبَصُرَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ، فَقَالَ: ((وَيْحَكَ، يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ! أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ)) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا بشیر بن خصاصہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکھا ہوا نام بشیر، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: خصاصیہ کے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا عیب لگاتے ہو، حالانکہ تم اس کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو اور تم نے ان کا ہاتھ بھی تھام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر کس چیز کا عیب لگا سکتا ہوں، جبکہ اس نے تو مجھے ہر قسم کی خیر عطا کر رکھی ہے۔ اتنے میں ہم مشرکوں کی قبروں تک جا پہنچے، ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ بڑی بھلائی کو (پیچھے چھوڑ کر) آگے نکل گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد ہم مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: ان لوگوں نے (اسلام قبول کر کے) بہت زیادہ بھلائی پائی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو جوتوں سمیت قبروں میں چلتے ہوئے دیکھا اور اسے فرمایا: اے سبتی جوتوں والے! تو ہلاک ہو جائے! اپنے جوتوں کو اتار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین بار یہ بات ارشاد فرمائی، جب اس آدمی نے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔

وضاحت:
فوائد: … ’’سِبْت‘‘ گائے کے اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس کو قرظ یا سلم کے درخت کے پتوں سے رنگا گیا ہو اور اس کے بال اتارے نہ گئے ہوں۔ اس چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو ’’نِعَال سِبْتِیَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے احترام کی خاطر اس شخص کو جوتے اتار دینے کا حکم دیا تھا۔ سیّدنابشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کا سابقہ نام ’’زحم‘‘ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے بشیر رکھا تھا، اس لیے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے ’’بشیرِ رسول‘‘ کہا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3230، وابن ماجه: 1568، والنسائي: 4/ 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 220787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21068»