الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَخْصِيصِهَا وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا باب: قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
حدیث نمبر: 3277
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيِّتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فوت شدہ مومن کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی توڑی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا تعلق میت کے احترام سے ہے، جس کی بے حرمتی کا لازمی نتیجہ گناہ ہے، بہرحال میت کی ہڈی توڑنے سے قصاص یا دیت واجب نہیں ہوتی۔