الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَخْصِيصِهَا وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا باب: قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ وَهُوَ حَيٌّ))، قَالَ: يَرَوْنَ أَنَّهُ فِي الْإِثْمِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَطْنَنْتُهُ قَوْلَ دَاوُدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کی ہڈی کو توڑنا ایسے ہی ہے، جیسے زندہ کی ہڈی توڑی جائے۔ اہل علم کا خیال ہے کہ (اس حدیث کا تعلق ہڈی توڑنے) کے گناہ سے ہے، عبد الرزاق نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ داؤد بن قیس کا قول ہے۔