حدیث نمبر: 3271
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَسُوِّيَتْ بِأَرْضِ الرُّومِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَوُّوا قُبُورَكُمْ بِالْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(تیسری سند) ابو علی ثمامہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ روم کے علاقے میں مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قبر کو زمین سے بلند کر کے بنایا جائے گا اور اسے زمین کے بالکل برابر نہیں کیا جائے گا، تاکہ اس کی حفاظت ہوتی رہے اور اس کی توہین نہ ہونے پائے۔ تو پھر سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث اور اس سے ان کے کیے ہوئے استدلال کا کیا بنے گا؟ اس کے مختلف جوابات ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق غیر شرعی اونچی قبروں سے تھا، جیسا کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں گزر چکا ہے، لیکن سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کو عام سمجھ لیا اور (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا معنی یہ ہو کہ ان کو کم بلند رکھا جائے۔ قبر کے بارے میں مزید احادیث:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3271
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، وانظر الحديث بالطريق الاول أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 810، وفي ’’الاوسط‘‘: 3188 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24459»