الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ وَرَشِّ الْمَاءِ عَلَيْهَا وَتَسْمِيَتِهَا لِتُعْرَفَ باب: قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
حدیث نمبر: 3270
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّومِ وَعَلَى ذَلِكَ الْجَيْشِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ فَضَالَةُ: خَفِّفُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ القُبُورِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ثمامہ کہتے ہیں: ہم نے روم کے علاقے والوں سے جہاد کیا، اس لشکر کے امیر سیّدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ تھے، … سارا واقعہ بیان کیا … ، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مٹی تھوڑی ڈالو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا تھا کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دیا جائے۔