الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ وَرَشِّ الْمَاءِ عَلَيْهَا وَتَسْمِيَتِهَا لِتُعْرَفَ باب: قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
عَنْ ثُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ، وَكَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِيَةَ عَلَى الدَّرْبِ، فَأُصِيبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَضَالَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ، حَتَّى وَارَاهُ فَلَمَّا سَوَّيْنَا عَلَيْهِ حُفْرَتَهُ، قَالَ: أَخِفُّوا عَنْهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ القُبُورِثمامہ ہمدانی کہتے ہیں: ہم سیّدنافضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روم کی طرف نکلے، وہ وہاں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے درب کے حاکم تھے، ہوا یوں کہ ہمارا ایک چچا زاد بھائی فوت ہو گیا، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس وقت تک اس کی قبر پر کھڑے رہے یہاں تک کے اس کو دفن کر دیا، جب ہم نے (مٹی ڈال کر) اس کا گڑھا برابر کرنے لگے تو انھوں نے کہا: ذرا مٹی کم ڈالو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔