الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ وَرَشِّ الْمَاءِ عَلَيْهَا وَتَسْمِيَتِهَا لِتُعْرَفَ باب: قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
حدیث نمبر: 3268
عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَبِيهِ: لَأَبْعَثَنَّكَ فِيمَا بَعَثَنِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ كُلَّ صَنَمٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جنابِ حیان کہتے ہیں: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیجوں گا کہ جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، اور وہ یہ تھا کہ میں ہر قبر کو برابر کر دوں اور ہر بت کو توڑ ڈالوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس سلسلے میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل روایت صحیح ہے: ابو ہیاج اسدی کہتے ہیں: