الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ وَرَشِّ الْمَاءِ عَلَيْهَا وَتَسْمِيَتِهَا لِتُعْرَفَ باب: قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يَلْطَخَ كُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ((يَا عَلِيُّ! لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ))سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔