الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّفْنِ لَيْلًا وَبَيَانِ الْأَوْقَاتِ الْمَنْهِيِّ عَنِ الدَّفْنِ فِيهَا باب: میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
حدیث نمبر: 3265
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهَا أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَايَفَتْ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعقبہ بن عامر جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ان تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا: (۱) جب سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، (۲) جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (۳) جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری صورت سے مراد زوال کا وقت ہے، جب سورج کے وسطِ آسمان میں پہنچ جانے کی وجہ سے بظاہر کسی چیز کا سایہ مغرب اور مشرق کی طرف نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد نماز جنازہ جیسی سببی نماز پڑھنا درست ہے۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ طلوع آفتاب کی تکمیل کے بعد کراہت کا وقت ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ بعض احادیث میں عمومی طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے، اس مسئلے میں درج ذیل تفصیل کو سامنے رکھا جائے: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی درج بالا حدیث، جس میں سورج کے بلند ہو جانے کا ذکر ہے۔ سیّدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ