الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ الْمَيِّتُ قَبْرَهُ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَالِكَ وَمَنْ يُدْخِلُهُ ، وَمَا جَاءَ فِي الْحَشْيِ فِي الْقَبْرِ وَانْتِظَارِ الْفَرَاغِ مِنَ الدَّفْنِ باب: اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3261
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَدْخُلُ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ))، فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْقَبْرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم اور اجنبی بھی عورت کو دفنا سکتا ہے، کیونکہ سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹیوں کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال کسی میت کی تدفین کے سب سے زیادہ مستحق اس کے رشتہ دار ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاُولُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ} (سورۂ انفال: ۷۵)