حدیث نمبر: 3260
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، ثُمَّ قَالَ: ((هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟))، قَالَ سُرَيْجٌ: يَعْنِي: ذَنْبًا، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((فَانْزِلْ))، قَالَ: فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحب زادی کے جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے، جس نے اِس رات کو (اپنی بیوی سے)ہم بستری نہ کی ہو؟ سریج نے کہا: اس کا معنی گناہ ہے، سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اترو۔ پس وہ ان کی قبر میں اترے۔

وضاحت:
فوائد: … سریج کا بیان کردہ معنی درست نہیں ہے، جیسا کہ اگلی روایت سے واضح ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3260
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13416»