الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ الْمَيِّتُ قَبْرَهُ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَالِكَ وَمَنْ يُدْخِلُهُ ، وَمَا جَاءَ فِي الْحَشْيِ فِي الْقَبْرِ وَانْتِظَارِ الْفَرَاغِ مِنَ الدَّفْنِ باب: اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، ثُمَّ قَالَ: ((هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟))، قَالَ سُرَيْجٌ: يَعْنِي: ذَنْبًا، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((فَانْزِلْ))، قَالَ: فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَاسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحب زادی کے جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے، جس نے اِس رات کو (اپنی بیوی سے)ہم بستری نہ کی ہو؟ سریج نے کہا: اس کا معنی گناہ ہے، سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اترو۔ پس وہ ان کی قبر میں اترے۔