الفتح الربانی
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب
بَابٌ فِي الِاعْتِصَامِ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَّ خَطًّا هَكَذَا أَمَامَهُ فَقَالَ: ((هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ)) وَخَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَخَطَّيْنِ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ: ((هَذِهِ سَبِيلُ الشَّيْطَانِ)) ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطِ ثُمَّ تَلَى هَذِهِ الْآيَةَ: {وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا الطُّرُقَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ، ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے والی سمت میں ایک (سیدھا) خط لگایا اور فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لکیریں دائیں طرف اور دو لکیریں بائیں طرف لگائیں اور فرمایا: ”یہ شیطان کا راستہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان والے (سیدھے) خط پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت کی: «وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ» (اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔) اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (الانعام: 153)